دم بخود

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - خاموش، ساکت، گنگ، چپ چاپ، دم سادھے۔ "ہم سمٹ کر دم بخود ایک کونے میں کھڑے ہو گئے۔"      ( ١٩٣٧ء، دنیائے تبسم، ٨٣ ) ٢ - حیران، ششدر، ہکابکا، مبہوت۔ "یہ تجلیات باری تعالٰی کے وہ رنگ رنگ اور دم بخود کر دینے والے مظاہر ہیں جو اس کی قدرت کاملہ کے آئینہ دار ہیں۔"      ( ١٩٨٤ء، سندھ اور نگاہ قدر شناس، ٨٩ )

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم جامد 'دم' کے ساتھ فارسی زبان ہی سے اسم جامد 'خود' لگایا گیا ہے۔ دونوں اسما کو حرف جار 'ب' کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٣٨ء کو "بستان حکمت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خاموش، ساکت، گنگ، چپ چاپ، دم سادھے۔ "ہم سمٹ کر دم بخود ایک کونے میں کھڑے ہو گئے۔"      ( ١٩٣٧ء، دنیائے تبسم، ٨٣ ) ٢ - حیران، ششدر، ہکابکا، مبہوت۔ "یہ تجلیات باری تعالٰی کے وہ رنگ رنگ اور دم بخود کر دینے والے مظاہر ہیں جو اس کی قدرت کاملہ کے آئینہ دار ہیں۔"      ( ١٩٨٤ء، سندھ اور نگاہ قدر شناس، ٨٩ )